صحت کےمتعلق آپ کے سوالات اور ان کے جوابات

Pages


 ڈاکٹر و حکیم ارشد ملک

بسم اللہ الرحمن الرحیم

حکیم ارشد ملک 1 جنوری 1971ء تا حال

رہبر حکمت اسلامی و طب جناب ڈاکٹر و حکیم ارشد ملک پاکستان کے نامور طبیب اورخاندانی حکیم ہیں۔

حکیم ارشد ملک عالمگیر شہرت کے حامل نامور پاکستانی طبیب‘ ادیب ہیں ۔ حکیم ارشد ملک 1 جنوری 1971ءکو ملتان پاکستان میں پیدا ہوئے ۔

ان کے والد الحاج حکیم ملک عبداللہ لودہرانوی نے 1978ءمیں عمرانیہ دوا خانہ کی بنیاد ڈالی ۔1990ء میں والد صاحب کا سایہ سر سے اٹھنے کے

بعد ان کےدوسرے استاد اساتذہ حکماء و طب حکیم حافظ عبدالکریم صاحب مرحوم نے ان کو حکمت دی۔

باقی عرصہ تیسرےاستاد پروفیسر حکیم عمران صاحب نے ان کی حکمت میں تربیت کی۔

1995 ء میں حکیم ارشد ملک نے ڈی ایچ ایم ایس کرنے کے بعد ھومیوپیتھک ڈاکٹر کی ڈگری حاصل کی ۔

ڈاکٹر و حکیم ارشد ملک

انہوں نے یہاں عمرانیہ کلینک کی ازسرنو بنیاد رکھی شب و روز کی جاں فشانی کے بعد عمرانیہ کلینک پاکستان کا ایک عظیم طبی ادارہ بن گیا۔

انہوں نے نومبر 2000ء میں الشفاء کلینک کی بنیاد رکھی ۔

:اساتذہ کرام

جناب حکیم عبداللہ صاحب

اساتذہ حکماء و طب حکیم حافظ عبدالکریم صاحب مرحوم خطیب سورج میانی ملتان

پروفیسر حکیم محمدعمران احمدصاحب سیفی حکیم اہلیسنت ملتان پاکستان

تصانیف :

حکمت کے اصول

حکمت اللہ کی رحمت

اصول پرہیز

قابلیت :

ایف ایس سی ۔ ایف ٹی جے ۔( ڈی ایچ ایم ایس) ھومیوپیتھک ڈاکٹر ۔ ڈی آئی ایم ایس ۔

ماہر :

مردانہ و زنانہ امراض پوشیدہ ۔ سکن سپیشلسٹ ۔ پین سپیشلسٹ ۔ سلمنگ سپشلسٹ۔

بانی :

ادارہ فروغ حکمت وصحت پنجاب پاکستان

پاکستان طبی کونسل لمیٹڈ

ویب سائیٹس :

حکیم ڈاٹ پی کے

حکیم ڈاٹ کام ڈاٹ پی کے

قرشی ڈاٹ ای یو

صحت ڈاٹ ڈبلیو ایس

شفاء خانے :

عمرانیہ کلینک

الشفاء کلینک

ایورڈز :

حکومت پاکستان اور حکومت پنجاب نے ان کی خدمات کے اعتراف کے طور پر 2007ءمیں انہیں میڈل اور تعریفی اسنادعطا کیں ۔ حکیم ارشد ملک ملتان میں اپنی خدمات جاری رکھے ہوئے ہیں۔

Social tagging: > > > > > > > > > > > > > > > > > > > > > > > > > > > > > > > > > > > > > > > > > > > > > > > > > > > > > > > > > > > > >

One Response to صحت کےمتعلق آپ کے سوالات اور ان کے جوابات

  1. مشت زنی کے اسباب اور علاج
    ————————-
    مشت زنی کے اسباب اور ان کا علاج درج ذیل ہے:
    ۱۔شادی میں تاخیر
    جلق بازی کا پہلا سبب شادی میں تاخیر ہے۔ ایک بچہ ۱۳ یا ۱۴ سال کی عمر میں بالغ ہوجاتا ہے۔ لیکن معاشی اور سماجی مسائل کی بنا پر وہ بلوغت کے ۱۵ یا ۱۶ سال بعد ہی شادی کے قابل ہوتا ہے۔ اس کا علاج جلد از جلد شادی ہے۔ اس موضوع پر ۔” شادی ایک مسئلہ کیوں؟” نامی تحریر سے بھی مدد لی جاسکتی ہےیہ تحریر اس لنک پر موجود ہے۔
    اگر شادی کی استطاعت نہ ہو تو حدیث کے مطابق روزے رکھ کر شہوت پر قابو پایا جاسکتا ہے۔
    ۲۔ بری صحبت
    ایک بچہ جب جوان ہوتا ہے تو اس کے ہارمونز میں تبدیلی آتی ہے۔ چنانچہ وہ اس ہیجان کی نوعیت سمجھنےکے لئے اپنے دوستوں سے رجوع کرتا ہے۔ اگر اس کے دوست احباب مشت زنی عریاں فلموں اور اس قبیل کی دیگر خرافات میں ملوث ہوتے ہیں تو وہ اسے بھی ان معاملات میں ملوث کرلیتے ہیں۔ اس کا علاج دو رخی ہے۔ ایک تو ماں باپ بچے کی بلوغت کے وقت اس پر کڑی نظر رکھیں اور اس کے معمولات کو دیکھیں۔ دوسرا یہ کہ اگر کوئی شخص بری صحبت سے بچنا چاہے تو اسے چاہئے کہ فوری طور پر وہ ایسے دوستوں سے قطع تعلق کرلے۔ نعم البدل کے طور پر وہ صالح فطرت لوگوں کی کمپنی تلاش کرے۔
    ۳۔ جنسی تعلیم کا فقدان
    ہمارے معاشرے میں جب ایک بچہ یا بچی جوان ہوتے ہیں تو ان کی جنسی تعلیم کا کوئی انتظا م موجود نہیں ہوتا۔ نہ تو تعلیمی اداروں میں اس موضوع پر کوئی تربیت فراہم ہوتی ہے اور نہ ہی ماں باپ اپنی روایتی ہچکچاہٹ کی بنا پر کسی راہنمائی کی پوزیشن میں ہوتے ہیں۔چنانچہ ایک نوجوان کے لئے اس کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوتا کہ وہ اپنے ہی ہم عمر اور ناپختہ دوستوں سے رجوع کرے یا جنسی موضوعات پر موجود ناقص کتابوں پر تکیہ کرے یا پھر انٹرنیٹ اور فلموں جیسے آزاد اور بد چلن میڈیا کو اپنا استاد بنالے۔ اسکے نتیجے کے طور پر ایک متجسس نوجوان بہت آسانی سے مشت زنی کی جانب راغب ہوجاتاہے۔
    انٹرنیٹ پر جنسی تعلیم کے نام پر جومواد موجود ہے وہ بالعموم مغربی فکر کے حامل افراد نے تیار کیا ہے ۔اس کا بیشتر حصہ غیر معیاری ہے اور اس کا مقصد آزادانہ جنسی اختلاط کو فروغ دینا ہے۔نیز یہ انگلش زبان اور غیر ملکی کلچر کی وجہ سے ہماری آبادی کے ایک بڑے حصے کے لئے بے کار ہے۔اردو میں جنس کے موضوع پر معیاری مواد نہ ہونے کے برابر ہے۔
    اس ضمن میں ریاست کو اقدام کرنے کی ضرورت ہے۔ ریاست اپنی نگرانی میں ماہرین کی مدد سے ایسا لٹریچر تیار کرے جو ایک پاکیزہ اسلوب میں ان نوجوانوں کی درست راہنمائی کرے۔ اس کے علاوہ ایسے ادارے رجسٹرڈ کئے جائیں جہاں جنسی مسائل کا اسپیشلائزڈ انداز میں حل پیش کیا جائے۔اس کے ساتھ ساتھ اہل علم حضرات، نفسیات دان اور ڈاکٹر ز کو چاہئے کہ وہ اپنی انفرادی و اجتماعی کوششوں کے ذریعے معیاری لٹریچر تیار کریں۔ ہمارے اہل علم حضرات عام طور پر جنس کے موضوع پر نہیں لکھتے کیونکہ ایسے مصنفین کو معاشرے میں تنقید کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ لیکن ہمیں یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ نوجوانوں کی تربیت ہماری اخلاقی ذمہ داری ہے اور اس ذمہ داری کو پورا کرنے کے دوران اگر ہمیں ملامت بھی برداشت کرنی پڑے تو کوئی حرج نہیں۔
    سیکس ایجوکیشن کے موضوع پر درج ذیل تین ویب سائٹس ہیں ۔ گوکہ ان کے معیار اور اسلوب پر کلام کیا جاسکتا ہے لیکن یہ کسی نہ کسی حد تک نوجوانوں کی راہنمائی کے لئے مددگار ثابت ہوسکتی ہیں۔
    ۴۔کیبل ٹی وی جنسی لٹریچر کی بھرمار
    مشت زنی کی ایک اور وجہ جنسی بے راہ روی کو فروغ دینے والے میڈیا تک آسان رسائی ہے۔ آج تقریباً ہر گھر میں ٹی وی، کیبل، انٹرنیٹ وغیرہ با آسانی دستیاب ہے۔ اس میڈیا پر بہت آسانی سے عریاں فلمیں، فحش تصاویر اور دیگر اخلاق باختہ مواد مل جاتا ہے۔ چنانچہ جب ایک نوجوان اپنے ارد گرد نظریں دوڑاتا ہے تو وہ خود کو چاروں طرف اس جنسی یلغار میں گھرا پاتا ہے۔ دوسری جانب اس کے اندرونی تقاضے بھی اسے گناہ کی جانب اکساتے ہیں۔ یہ سب صورت حال اسے مشت زنی کی جانب باآسانی لے جاتی ہے۔
    اس کا علاج یہی ہے کہ انٹرنیٹ اور ٹی وی یا کیبلز کو کم سے کم وقت دیا جائے۔ نیز تنہائی میں ٹی وی یا کمپیوٹر استعمال کرنے سے گریز کیا جائے ۔ مزید یہ کہ ٹی وی اور کمپیوٹر کو کسی ایسی جگہ پر رکھا جائے جہاں لوگوں کا گذر ہو ۔ اس موضوع پر “فحش سائیٹس اور ہمارے نوجوان ” نامی تحریر سے بھی مدد لی جاسکتی ہے جس کا لنک نیچے ہے۔
    ۵۔ عشق و محبت میں گرفتاری
    بلوغت کے فوراً بعد ہی ایک نوجوان اپنے ارد گرد ایک عشق گزیدہ ماحول میں آنکھیں کھولتا ہے۔ہر دوسرے ڈرامے، فلم یا ناول میں عشق و محبت کی داستانیں چل رہی ہوتی ہیں۔ چنانچہ وہ اس خیالی دنیا کو حقیقی سمجھ کر خود بھی قسمت آزمائی کرتا ہے۔ جب وہ اس میں کامیاب ہوجاتا ہے تو صنف مخالف سے اس کا اختلاط بڑھ جاتا ہے جو اسے مشت زنی کی جانب لے جاسکتا ہے۔
    اس کا علاج یہ ہے کہ نوجوان ان ناولوں اور فلموں سے خود کو دور رکھتے ہوئے حقیقت پسندی پر مبنی لٹریچر پڑھے یا دیکھے۔ مثال کے طور سیرت نبوی یا صحابہ کا مطالعہ، شجاعت اور اخلاقی اچھائیوں پر مبنی ڈرامے وغیرہ۔ اس ضمن میں ” عشق اور نوجوان ” نامی تحریر سے راہنمائی حاصل کی جاسکتی ہے۔
    ۶۔ تنہائی اور بے کاری
    عام طور پر نوجوانوں کے پاس فارغ اوقات زیادہ ہوتے ہیں اوراس فراغت میں تنہائی بھی میسر آجائے تو ذہن پر جنسی خیالات چھاجانے کا قوی اندیشہ ہوتا ہے۔ چنانچہ نوجوانوں کو چاہئے کہ خود کو مصروف رکھیں، ورزش کریں، کھیل کود میں حصہ لیں اور مثبت سرگرمیوں میں خود کو ملوث کریں۔اچھی اور دینی ویب سائیٹس کا مطالعہ کریں اور ان سے راہ نمائی حاصل کریں۔
    ۷۔مخلوط تعلیمی نظام
    مخلوط تعلیمی نظام کی بنا پر لڑکے اور لڑکی کو ایک دوسرے کے قریب رہنے کا موقع ملتا ہے۔ اس اختلاط کی بنا پر نگاہیں بے قابو ہوتیں اور خیالات برانگیختہ ہوتے رہتے ہیں۔ اسلام میں واضح ہدایت ہے کہ نگاہوں کو نیچی رکھو یعنی کسی کو شہوت کی نگاہ سے نہ دیکھو۔ چنانچہ پہلے تو اسی ہدایت پر عمل کیا جائے دوسرا یہ کہ کلاس لینے کے علاوہ کسی اور مقام پر صنف مخالف سے بے تکلفی نہ برتی جائے بلکہ اپنے ہم جنسوں ہی سے دوستی اور روابط رکھے جائیں۔
    مشت زنی سے نجات کےلئے چند ہدایات
    ۱۔نگاہوں کی حفاظت کی جائے اور جونہی کوئی فحش منظر دیکھیں تو اس سے نظر ہٹالیں۔
    ۲۔ خیالات کو پاکیزہ رکھنے کی کوشش کی جائے اور کوئی فحش خیال آنے پر اللہ کا ذکر اور اسکی یاد شروع کردی جائے۔
    ۳۔نکاح میں عجلت کی جائے اور خود کو اپنی شریک حیات تک ہی محدود رکھا جائے۔ اگر نکاح کی استطاعت نہ ہو یا بیوی یا شوہرتک رسائی ممکن نہ ہو تو کثرت سے روزے رکھے جائیں۔
    ۴۔ غذا کو سادہ رکھا جائے تاکہ سفلی جذبات کم سے کم پیدا ہوں۔
    ۵۔ کسی گناہ کے سرزد ہونے کے بعد مایوس نہ ہوں بلکہ توبہ کرکے نئے سرے سے محنت میں لگ جائیں۔
    ۶۔ خود کو مصروف رکھیں اور زیادہ سے زیادہ مثبت سرگرمیاں شروع کریں۔
    ۷۔ جذبات کو بھڑکانے والی فلم ، ڈرامہ، ناول، سائٹ یا رسائل و جرائد سے پرہیز کریں۔
    ۸۔ جسمانی مشقت کریں اور کسی کھیل کود یا جسمانی ورزش میں خود کو مصروف کریں۔

    مشت زنی کا علاج ۔ مشت زنی سے ھونے والے پتلےپن کا علاج
    ————————–
    قیمت=5000روپےماہانہ
    گارنٹی سے برائے رابطہ حکیم و ڈاکٹر ارشد ملک
    03006397500
    ————————–
    سرعت انزال احتلام کا علاج مردانہ کمزوری کاعلاج

    قیمت=2500روپےماہانہ
    ————————–
    گارنٹی سے برائے رابطہ حکیم و ڈاکٹر ارشد ملک
    03006397500

    http://www.sayhat.net

    موٹا خاص
    عضو خاص عضو تناسل کو موٹا کرنےکے لیے
    ————————————–
    عضو خاص ۔عضو تناسل۔قضیب کو موٹا کرنےکے لیے لاجواب کورس ۔ جس سے مشت زنی یا کسی اور وجہ سے نفس/عضو خاس کے پتلے پن کو دور کرکے اس کو موٹا اور مظبوط بناتا ھے۔ مردہ رگوں میں نئی جان ڈال کر ان کو مکمل مردم کی طرح موٹا کرتاھے۔ مردانہ ھارمونز کی کمی کو پوراکرکے عضو خاص کو موٹا کرتا ھے۔پہلے ماہ سے واضع فرق محسوسس ہوگا۔ مکمل کورس 3 ماہ
    Price: Rs. 5000 ایک ماہ
    ————————————–
    Customer Support : (Call – Timing 10.00am To 11.00pm Only)
    ————————————–

Leave a Reply